بنگلورو،16؍فروری(ایس او نیوز)کرناٹک میں ان دنوں حجاب کے معاملہ میں جو فضا ء دن بدن بنتی جا رہی ہے، اس کے بارے میں منگل کی صبح ریاست کے مسلم اراکین اسمبلی وکونسل کے ایک وفد نے وزیراعلیٰ بسواراج بومئی سے ملاقات کی اور اس معاملہ میں حکومت سے درخواست کی کہ حجاب کے متعلق ہائی کورٹ نے جو عبوری فیصلہ جاری کیا ہے،اس کو بہانے بنا کر اسکولوں میں مسلم طالبات کو ہراساں کیا جا رہا ہے، اس پر روک لگائی ہے-
رکن کونسل نصیر احمد نے اس ملاقات کے بعد”نامہ نگاروں“ کو بتایا کہ وفد نے وزیر اعلیٰ کو یہ بتایا کہ حجاب کے استعمال پر روک لگانے کے لئے کرناٹک ہائی کورٹ کی سہ رکنی بینچ کی طرف سے جو عبوری حکم نامہ جاری کیاگیا ہے، اس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ سرکاری کالجوں کی نگرانی کے لئے جو کالج ڈیولپمنٹ کمیٹی(سی ڈی سی) قائم ہے، اس کی طرف سے وضع کئے گئے یونیفارم ضابطے کی تعمیل کی جائے، اس لئے اس حکم کوصرف سرکاری کالجوں تک ہی محدود رکھا جائے- لیکن حجاب کے استعمال سے اسکولوں میں بھی طالبات کو روکا جا رہا ہے - نہ صرف سرکاری بلکہ ان نجی اسکولوں میں بھی طالبات کو حجاب پہن کر آنے سے روکا جا رہا ہے جہاں اب تک یونیفارم ضابطے میں ایسی کوئی بات نہیں تھی-
وفد کے ممبران نے وزیر اعلیٰ سے گزارش کی کہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں، ڈی ڈی پی آئی اور ایس پی کو ہدایت دی جائے کہ اسکولوں میں بے وجہ حجاب کے لئے ہراساں نہ کیا جائے- اس مرحلہ میں وزیر اعلیٰ نے اس حکم نامہ کے ایک اور حصہ کی نشاندہی کر تے ہوئے بتایا کہ تمام طلبہ سے کہا گیا ہے کہ کلاسوں میں اپنی مذہبی شناخت نہ لائیں - اس لئے اس حکم کا نفاذ اسکولوں میں بھی کیا گیا ہے-
اس مرحلہ میں وزیر اعلیٰ بومئی نے کہا کہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے، عدالت کا جو بھی فیصلہ ہو گا حکومت اس کی پابند رہے گی -انہوں نے عدالت کے فیصلہ کے نفاذ میں مسلم منتخب نمائندوں سے تعاون کی گزارش کی تو ان تمام نمائندو ں نے دوٹو ک کہہ دیا کہ اس ملک کے آئین کے تحت مسلمانوں کو مذہبی آزادی کی جو ضمانت دی گئی ہے، عدالت کا فیصلہ اگر اس کے مطابق ہو گا تو اس کو ضرور مانا جائے گا اور اس پر عمل بھی کیا جائے گا لیکن اگر فیصلہ آئینی تحفظات سے ٹکراتا ہے تو اس کے نفاذ میں تعاون کا سوال ہی نہیں اٹھتا-
وفد میں ریاستی اسمبلی کے نائب اپوزیشن لیڈر یو ٹی قادر، اراکین اسمبلی ضمیر احمد خان، تنویر سیٹھ،این اے حارث، رضوان ارشد، کنیز فاطمہ، رحیم خان، اراکین کونسل نصیر احمد، سلیم احمد، سابق رکن کونسل اور کے پی سی سی اقلیتی شعبہ کے چیرمین عبدالجبارشامل تھے-
